باوقار روزگار اور پاکستان

باوقار روزگار وہ روزگار ہے جسکی ہم سب خواہش کرتے ہںم۔ یہ ان حالات کارمںن کار جانے ولا کام ہے جہاں ہر ایک کو روزگار مسرہو۔

باوقار روزگار سے کیا مراد ہے؟

باوقار روزگار وہ روزگار ہے جسکی ہم سب خواہش کرتے ہیں۔ یہ ان حالات کار میں کیا جانے ولا کام ہے جہاں ہر ایک کو روزگار میسرہو، ہر ایک کو کام سے متعلق تمام حقوق حاصل ہوں جہاں لوگوں کو سماجی/معاشی تحفظ حاصل ہواور جہاں انہیں سوشل ڈائیلاگ کے ذریعے سے اپنے حقوق کے تحفظ کی اجازت ہو۔ کام سے متعلق بنیادی حقوق یہ ہیں: انجمن /یونین سازی کا حق، بچوں سے مشقت نہ لی جائے، جبری مشقت اور عدم مساوات نہ ہوں۔

باوقار روزگار کی اصطلاح، جو کہ پہلی دفعہ 1999 میں آئی۔ایل۔او کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل نے استعمال کی تھی، کو اب اقوام متحدہ نے ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز کے ایک ٹارگٹ کے طور پر اپنا لیا ہے۔ سن 2005 سے باوقار روزگار پہلے ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کا حصہ ہے اور اس ٹارگٹ کے متعلق پروگریس رپورٹس دینا آئی۔ایل۔او کی ذمہ داری ہے۔

کیا پاکستان میں باوقار حالات کار پیدا کرنے کیلیئے کوئی پروگرام چل رہا ہے؟

پاکستان، ایشیا اور پیسیفک ریجن میں پہلا ملک ہے جس نے 2005 سے اپنا باوقارروزگار کا ملکی پروگرام/ڈیسنٹ ورک کنٹری پروگرام آئی۔ایل۔او کی تکنیکی مدد سے شروع کیا ہوا ہے۔ اس پروگرام کے تحت تمام فیصلے سہ فریقی ہوتے ہیں یعنی تمام ساجی فریق قلیل اور طویل المعیادی ترجیحات کے تعین میں شامل ہوتے ہیں تاہم یہ ترجیحات اور مقاصد ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی متعین کیے جاتے ہیں۔

باوقار روزگار چیک کا کیا استعمال ہے؟

آئی۔ایل۔او ابھی باوقار روزگار کو مختلف شماریاتی علامات سے دکھانے پر کام کر رہا ہے۔ تاہم باوقار روزگار چیک ویج انڈیکیٹر فاؤنڈیشن کے تحت بنایا گیا ہے اور یہ آئی۔ایل۔او کی اہم کنونشنز پر مبنی ہے۔ یہ آپکی یعنی آپکے ادارے کی پالیسیوں کا ملکی قوانین اور انٹرنیشنل لا کے ساتھ موازنہ کرتا ہے۔ آپ نہ صرف یہ جان سکتے ہیں کہ آپکے ادارہ ملکی قوانین کے مطابق کام کر رہا ہے یا نہیں بلکہ آپ یہ بھی معلوم کر سکتے ہیں کہ آپکے ملکی قوانین محنت انٹرنیشنل سٹینڈرڈز کے مطابق ہیں یا نہیں۔

مجھے آئی۔ایل۔او کے بارے میں کچھ بتائیے۔

آئی۔ایل۔او اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسی ہے جو کہ کام اور روزگار سے متعلقہ معاملات پر کام کرتی ہے۔یہ لیگ آف نیشنز کے تحت قائم کی گئی تھی تاہم لیگ آف نیشنز کے ٹوٹنے کے باوجود یہ ادارہ قائم رہا اور بعد ازاں 1948 میں یہ اقوام متحدہ کا حصہ بن گیا۔ اب اسکے 183 رکن ہیں۔ آئی۔ایل۔او ایسی واحد اقوام متحدہ کی ایجنسی ہے جو کہ سہ فریقی ہے یعنی اسمیں ورکرز، آجران اور حکومتوں کے نمائندے ہمسری کی بنیاد پر شامل ہوتے ہیں ۔

انٹرنیشنل لیبر سٹینڈردڈز کیا ہیں؟

انٹرنیشنل لیبر سٹینڈرڈز ، کنونشنز اور سفارشات/تجاویز ہیں جو آئی۔ایل۔او اپنے سہ فریقی رائے دہندگان کے ذریعے سے متعین کرتا ہے تاکہ کارکنان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ اسوقت آئی۔ایل۔او کی 188 کنونشنز اور 200 سفارشات ہیں۔کنونشن اور سفارش میں فرق یہ ہے کہ ایک کنونشن توثیق کے بعد قانونی معاہدہ بن جاتی ہے اور اس پر عمل کرنا آپکی حکومت کا فرض بنتا ہے جبکہ سفارشات/تجاویز ایک پالیسی گائیڈلائن کی حیثیت رکھتی ہیں جن پر عمل کرنے کیلیئے ملک پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے۔ تاہم تمام رکن ملک اپنی رکنیت کے سبب اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ آئی۔ایل۔او کی کور کنونشنز کا احترام کریں اور انکے مطابق اپنے قوانین کو تبدیل کریں چاہے ان کنونشنز کی توثیق انہوں نے نہ بھی کی ہو۔ کور کنونشنز بنیادی حقوق پر ہیں جو کہ یہ ہیں: انجمن /یونین سازی کا حق، بچوں سے مشقت نہ لی جائے، جبری مشقت اور عدم مساوات نہ ہوں۔

انٹرنیشنل لیبر سٹینڈرڈز پر مزید معلومات کیلیئے یہ لنک کھو لیے۔
http://www.ilo.org/global/standards/lang--en/index.htm

اگر آپ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آئی۔ایل۔او پاکستان میں کیا کام کر رہا ہے تو نیچے دیے گئے لنک کو کھولیں۔
http://www.ilo.org/islamabad/lang--en/index.htm

Related Article: http://www.paycheck.pk/main/labour-laws/working-hours-and-holidays/working-hours-and-holidays-1

Click here for Urdu English

 

 

loading...