اوقات کار اور چھٹیاں

پاکستانی قوانین محنت کے مطابق کارکنوں کی چھ مختلف کیٹگریاں ہیں۔ ان سب کے مختلف حقوق وفرائض ہیں۔ کیا آپکو اپنی کیٹگری کا پتا ہے؟ نیز یہ کہ کیا آپکو معلوم ہے کہ آپ سال میں کتنے دن اتفاقی یا بیماری کی چھٹی لینے کے حقدار ہیں؟

پاکستان میں اوقات کا ر اور تعطیلات /چھٹیوں کے بارے میں کون کونسے قوانین موجود ھیں؟

پاکستان میں تین قوانین ایسے ھیں جو اوقات کار ، تعطیلات اور آرام کے وقفوں کا تعین کرتے ھیں۔ وہ قوانین درج ذیل ھیں۔

فیکٹریز ایکٹ،  1934

دی شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس،1965

ویسٹ پاکستان انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ  (سٹینڈنگ آرڈرز) آرڈیننس،1968

مائنز ایکٹ 1923

ٹ 1973

روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس 1961

1890

مجھے یہ کیسے معلوم ہو گا کہ میں جس ادارے میں کام کرتا ہوں اس پر کونسا قانون لاگو ہوتا ہے؟

فیکٹریز ایکٹ کا اطلاق بنیادی طور پرکسی بھی مینوفیکچرنگ پروسیس/ مصنوعات بنانے کے عمل پر ہوتا ہے۔اور یہ قانون کسی بھی اس فیکٹری پر لاگر ہوتا ہے  جسمیں دس یا دس سے زیادہ افراد کام کر رہے ہوں یا پچھلے بارہ ماہ میں کسی بھی دن کام کر رہے تھے۔لیکن اگر آپ کسی معدنی کان میں کاملل کرتے ہیں تو آپ پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔

سٹینڈنگ آرڈرز کا اطلاق کسی بھی ایسے صنعتی یا تجارتی ادارے پر ہوتا ہے جہاں بیس یا اس سے زیادہ افراد ملازم ہوں یا پچھلے بارہ ماہ میں کسی بھی دن ملازم تھے۔

دی شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس کا اطلاق تمام اداروں پر ہوتا ہے سو وہ ادارے جو فیکٹریز ایکٹ اور سٹینڈنگ آرڈرز کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے ان پر اس قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔اور اگر آپ کسی ایسے ادارے میں کام کر رہے ہیں جس میں ملازمین کی تعداد دس سے بھی کم ہے تو آپ کا ادارہ اس آرڈیننس کے تحت آتا ہے۔

مائنز ایکٹ کا اطلاق کسی بھی اس کھدائی پر ہوتا ہے جو معدنیات کو تلاش کرنے یا انکے حصول کیلیئے کی گئی ہو یا کی جا رہی ہو اور اس میں وہ تمام کام،مشینری، ٹراموے اور ریل کی بغلی لائن، خواہ زمین کے اوپر ہوں یا زیر زمین یا کان سے متصل یا کان کا حصہ ہوں، شامل ہیں۔ تاہم اسمیں وہ جگہ جو پیدائشی عمل کیلیئے استعمال کی جارہی ہو وہ شامل نہ ہوگی تاوقتیکہ یہ پیدائشی عمل پتھر کا کوئلہ بنانے یا دھاتوں کی ڈھلائی کیلیئے ہو۔

اخباری ملازمین سے متعلقہ قانون کا اطلاق کسی بھی اس ادارے پر ہوتا ہے جو ایک یا زیادہ اخبارات کی پروڈکشن، پرنٹنگ یا پبلیکیشن یعنی اشاعت کیلیئے ہو یا کسی نیوز ایجنسی یا سنڈیکیٹ کے اہتمام کیلیئے ہو۔

روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس کا اطلاق کسی بھی اس سروس پر ہوتا ہے جو مسافروں یا مال/اشیا؍ یا دونوں کو، بذریعہ روڈ، گاڑیوں سے ایک جگہ  سے دوسری جگہ لے جانے کیلیئے استعمال ہو اور یہ سروس کسی معاوضے یا کرائے کے عوض ادا کی گئی ہو۔

ریلویز ایکٹ کا اطلاق تمام ریلوے ملازمین پر ہوتا ہے چاہے وہ ریگولر یا غیر مسلسل/نوبتی کارکن ہوں۔

کسی بھی ادارے میں کون کونسی طرح کے کارکن/ ملازم کام کرتے ہیں؟براہ کرم رہنمائی کیجیے۔

اگر آپ کسی ادارے میں کام کرتے ہیں تو آپکو درج ذیل چھ کیٹگریز میں سے کسی ایک میں رکھا جائے گا۔

مستقل ملازم 

پروبیشنر/ آزمائشی ملازم 

بدلی ملازم

عارضی ملازم

نوآموز/ اپرنٹس

ٹھیکے پر کام کرنیوالا/کنٹریکٹ ورکر

آپ مستقل ملازم تب کہلاتے ہیں جب آپ مستقل نوعیت کے کام پر پچھلے نو ماہ سے مامور ہوں یا اس کام کے نو ماہ سے زیادہ جاری رہنے کا امکان ہو۔ اور آپ نے تین ماہ کا پروبیشن تسلی بخش طریقے سے پورا کیا ہو۔

اگر آپ کو کسی مستقل ملازمت کیلیئے رکھا گیا ہو لیکن ابھی آپ نے تین ماہ کی آزمائشی مدت پوری نہ کی ہو تو آپ پروبیشنر کہلائیں گے۔ 

اگر آپکو کسی مستقل اسامی یا پروبیشنر(جو کہ چھٹی پر ہو) کی جگہ  عارضی طور پر رکھا گیا ہو تو آپ بدلی کہلائیں گے۔

 اگر آپ کو کسی ایسے کام کیلیئے رکھا گیا ہے جو نو ماہ کے اندر اندر ختم ہو جائے گا تو آپ عارضی کارکن کہلائیں گے۔

اگر آپکو کام اپرنٹس شپ آرڈیننس کے تحت کام سیکھنے کیلیئے رکھا گیا ہے تو آپ نوآموز یا اپرنٹس کہلائیں گے۔

آخر میں، اگر آپکو کنٹریکٹ پر رکھا گیاہو اور آپکو اجرت بحساب کار یعنی پیس ریٹ پر دی جاتی ہو تو آپ کنٹریکٹ ورکر کہلائیں گے۔مزید یہ کہ اگر آپ معمول کے اوقات سے زیادہ کام کیں گے تو آپکو اوور ٹائم کی آضافی اجرت نہیں ادا کی جائیگی بلکہ آپ کو اضافی اوقات کی اجرت عام ریٹ کے مطابق ہی ادا ہو گی۔

روزانہ کام اور ہفتہ وار کام کے اوقات کار کیا ہیں؟ اوور ٹائم کب شروع ہوتا ہے اور اوورٹائم کی شرح کیا ہے؟

قانو ن کے مطابق آپکے معمول کے روزانہ کے اوقات کار آٹھ گھنٹے ہیں جبکہ ایک ہفتے میں یہ اڑتالیس گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہونے چاہیئیں۔ تاہم اوورٹائم کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ سے ایک ہفتے میں ساٹھ گھنٹے تک کام کا کہا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں روزانہ کے اوقات کار کا پھیلاو بارہ گھنٹے ہو گا۔

معمول کے اوقات کا ر               ایک دن میں آٹھ گھنٹے

لنچ اور نماز کیلیئے                  ایک دن میں ایک گھنٹہ

آرام کا وقفہ                          ایک دن میں ایک گھنٹہ

اوورٹائم                               ایک دن میں دو گھنٹے

اگر آپکا آجر آپ سے اوورٹائم کروانا چاہ رہا ہے تو آپکو ایک گھنٹہ آرام کا وقفہ دیا جانا چاہیئے۔ آپکو ایک دن میں دو گھنٹے سے زیادہ اوورٹائم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اور ایک سال میں آپکے اوورٹائم کے اوقات چھ سو چوبیس گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔آپکو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ لنچ ٹائم اور آرام کا وقفہ ان پیڈ یعنی غیر ادا کردہ اوقات ہیں اور آپکو ان دو گھنٹوں کے عوض کوئی معاوضہ ادا نہ کیا جائے گا۔ آپکے آجر کیلیئے ضروری ہے کہ وہ چھ گھنٹے کام کے بعد ایک گھنٹہ آپکو آرام کا وقفہ دے۔

اگر آپ ایک کمسن شخص ہیں (اگر آپکی عمر چودہ سال سے زیادہ اور سترہ سال سے کم ہو) تو آپکو ایک دن میں زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹا اوورٹائم کیلیئے کہا جا سکتا ہے لیکن ایک سال میں آپکے اوورٹائم کے اوقات چارسو اڑسٹھ گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔

اگر آپ ایک خاتون ہیں تو آپ رات کو دس بجے تک یعنی دو شفٹوں میں کام کر سکتی ہیں۔ لیکن یہ اسی صورت میں ھے اگر آپکا آجر آپ کیلیئے پک اینڈ ڈراپ کا انتظام کرے۔اگر آجر ٹرانسپورٹ کا انتظام نہیں کرتا تو آپکے اوقات کار صبح چھ سے شام سات بجے کے دوران ہونے چاہیئیں۔ کم سنوں کیلیئے بھی اوقات کار یہی ہیں۔

اسیطرح سے اگر آپ ایک روڈ ٹرانسپورٹ سروس میں کام کرنے والے ملازم ہیں تو آپکو ایک دن میں آٹھ گھنٹے اور ہفتے میں اڑتالیس گھنٹوں سے زیادہ کام اوورٹائم کی اضافی اجرت دیے بغیر نہیں کروایا جا سکتا۔ مزید یہ کہ پنچ گھنٹے لگاتار کام کے بعد آپ کیلیئے آدھے گھنٹے کا آرام کا وقفہ ضروری ہے اور اگر آپ سات گھنٹے سے اوپر کام کرتے ہیں تو آپکو آدھ آدھ گھنٹے کے دو آرام کے وقفے دیے جانا ضروری ہیں۔

یونہی اگر آپ ایک معدنی کارکن ہیں تو آپکو ایک معمول کے اوقات کے بعد اوورٹائم کی اضافی اجرت دی جائیگی۔ تاہم وہ معدنی کارکن جو زمین کے اوپر کام کر رہے ہیں ان کیلیئے اوقات کار کا پھیلاؤ بارہ گھنٹے جبکہ زیر زمین کام کرنے والے کارکنان کیلیئے یہ پھیلاؤ آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہ ہو گا جسکا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر آپ زیر زمین کام کرتے ہیں تو آپکو اوورٹائم کیلیئے نہیں کہا جا سکتا۔

رمضان کے مقدس مہینے میں تمام ادارے اوقات کار تقریباً دو گھنٹے کم کر دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے نوٹیفیکیشن کا اجرا؍ بھی ہوتا ہے۔

'جہاں تک اوور ٹائم کے ریٹ کا تعلق ہے اسکی شرح معمول کے ریٹ سے دگنی ہوتی یے۔ مزید معلومات کیلیئے ' اجرتوں کے بارے میں سب کچھ' میں دیکھیئے۔

مجھے ایک ہفتے میں کتنی چھٹیوں کی اجازت ہے؟

اگر آپ کے روازانہ کے معمول کے اوقات آٹھ گھنٹے ہیں تو آپ ہفتے میں ایک چھٹی کے اہل ہیں۔ یہ ہفتے کا کوئی سا بھی دن ہو سکتا ہے اور یہ وہ دن بھی ہو سکتا ہے جب آپکا پورا ادارہ چھٹی پر ہوتا ہو۔ لیکن آپکو یہ ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر آپکو چھٹی والے دن کام کرنے کا کہا جاتا ہے تو اسکے عوض آپکو بدلے کی چھٹی جلد از جلد دی جائے گی اور آپکو لگاتار دس دن چھٹی دیئے بغیر کام کرنے کا نہیں کہا جا سکتا۔ آپکی ہفتہ وار چھٹی باتنخواہ ہے اور آپکا آجر اس چھٹی کی رقم آپکی تنخواہ سے نہیں کاٹ سکتا۔

مجھے ایک سال میں کسقدر اتفاقی اور بیماری کی چھٹیاں لینے کی اجازت ہے؟

اگر آپ ایک کنٹریکٹ ورکر یعنی ٹھیکے پر کام کرنے والے کارکن نہیں ہیں تو آپ اتفاقی اور بیماری کی چھٹی لے سکتے ہیں۔ ایک تقویمی سال میں آپ دس دن کی اتفاقیہ چھٹی مکمل اجرت کے ساتھ لے سکتے ہیں۔ آپ تین دن سے زیادہ کی اکٹھی اتفاقیہ چھٹی نہیں لے سکتے اور یہ چھٹی جمع نہیں کی جا سکتی۔

آپ ایک سال میں آٹھ دن کی بیماری کی چھٹی مکمل اجرت کے ساتھ یا سولہ دن کی چھٹی آدھی اجرت کے ساتھ لے سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک سال کے دوران بیماری کی چھٹی نہیں لیتے تو آپ انہیں اگلے سال کیلیئے جمع کر سکتے ہیں لیکن ایک ٹائم میں  سولہ دن سے زائد چھٹیاں جمع نہیں کی جا سکتیں۔

مائنز ایکٹ اور روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس کے تحت بھی اتنی ہی چھٹیوں کی اجازت ہے تاہم اگر آپ ایک اخباری ادارے میں ملازم ہیں تو آپکو ایک سال میں پندرہ اتفاقی چھٹیوں کی اجازت ہے جبکہ بیماری کی چھٹیاں پچھلے سال کی سروس کے اٹھارویں حصے سے کم نہیں ہونی چاہیئیں۔ انکی کم از کم حد دس دن ہے۔ آپکو بیماری کی چھٹی میڈیکل سرٹیفیکیٹ مہیا کرنے پر ہی دی جائے گی۔

سال میں کتنی تہواری تعطیلات ہوتی ہیں اور پبلک، گزیٹڈ اور تہواری تعطیلات میں کیا فرق ہے؟

صوبائی حکومت ہر سال کے شروع میں تہواری تعطیلات کا اعلان کرتی ہے اور یہ تعطیلات عموماً بارہ سےتیرہ ہوتی ہیں۔ یہ تیطیلات مکمل اجرت کے ساتھ دی جاتی ہیں۔ تاہم اگر انمیں سے کوئی تعطیل عام چھٹی کے دن یعنی اتوار کو آ جائے تو اسکے بدلے میں کوئی اور چھٹی نہیں دی جاتی۔

اگرچہ قانون میں صرف تہواری چھٹیوں کا ذکر ہے لیکن پبلک، گزیٹڈ یا تہواری تعطیلات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کیونکہ یہ سب باتنخواہ تعطیلات ہیں۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسلامی تہوار کی تاریخ چاند کے نظر آنے پر ہی متعین ہوتی ہے اسلیئے نیچے دیئے گئے دن آگے پیچھے ہو سکتے ہیں۔ اگر آپکا تعلق غیم مسلم کمیونٹی سے ہے تو آپکے تہواروں پر آپکو با تنخواہ تعطیلات دی جائیں گی۔ صوبائی حکومتیں اس سلسلے میں نوٹیفیکیشن کا اجرا بھی کرتی ہیں۔

تاریخ

تعطیل کی وجہ

پانچ فروری

یوم کشمیر 

تیئیس مارچ

یوم پاکستان

یکم مئی

یوم مئی

چودہ اگست

یوم آزادی

 

Click here for English Version

 

 

loading...