زچگی کی رخصت اور دیگر مراعات

قوانین محنت میں دی گئی زچگی کی رخصت اور دیگر مراعات کے متعلق جانیے اور یہ بھی جانیے کہ آپکی رخصت باتنخواہ ہے یا بلا تنخواہ۔ نیز یہ بھی جانیے کہ کیا آپکا آجر زچگی کی بنا پر آپکے ساتھ امتیازی سلوک کر سکتا ہے؟

پاکستان میں زچگی سے متعلق (یعنی اسکے دوران رخصت، طبی دیکھ بھال اور دیگر مراعات) کون کونسے قوانین موجود ہیں؟

پاکستان میں زچگی سے متعلق چار قوانین ہیں جو زچگی اور اس سے متعلقہ تمام مراعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ وہ قوانین یہ ہیں۔

مائنز میٹرنٹی بینیفٹس ایکٹ، 1941

ویسٹ پاکستان میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس، 1958

پراونشل ایمپلائز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس، 1965

سول سرونٹس رولز، 1973

تاہم ان قوانین کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 37 کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمت پیشہ خواتین کیلیئے مراعات زچگی کا اہتمام کرے۔

ان قوانین کا دائرہ اختیار کیا ہے؟

 مائنز میٹرنٹی بینیفٹس ایکٹ کا اطلاق ان تمام معدنی کانوں پر ہوتا ہے جن پر مائنز ایکٹ  کا اطلاق ہے۔

ویسٹ پاکستان میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس کا اطلاق تمام آرگنائزیشنز، تجارتی اور صنعتی اداروں اور فیکٹریز پر ہوتا ہے۔

پراونشل ایمپلائز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس کا طلاق تمام اداروں پر ہے اور اسمیں زچگی کے دوران کی مراعات اور طبی دیکھ بھال کے بارے میں بھی احکام ہیں۔

سول سرونٹس رولز اور رخصت کے ترمیم شدہ قواعد بھی ریاستی ملازمین کو زچگی کیلیئے دی گئ رخصت کا احاطہ کرتے ہیں۔

براہ کرم کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان قوانین کے تحت کسقدر رخصت کی گنجائش ہے؟

مائنز میٹرنٹی بینیفٹس ایکٹ اور ویسٹ پاکستان میٹرنٹی بینیفٹ آرڈیننس کے تحت ہر خاتون ملازم کو زچگی کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ بارہ ہفتے/تین مہینے کی باتنخواہ چھٹی کی اجازت ہے۔ وہ اسمیں سے چھ ہفتے کی چھٹی وضع حمل سے پہلے اور چھ ہفتے بعد میں بھی لے سکتی ہے اور وہ تمام چھٹی بھی وضع حمل کے بعد لے سکتی ہے۔ جو عورت میٹرنٹی بینیفٹ/مراعات زچگی لے رہی ہو اور چھٹی پر ہو  اسکو اب اجرت اسکی آخری ادا شدہ اجرت کی شرح کے مطابق ادا کی جائے گی، مثلاً اگر آپکو آخری ادا شدہ اجرت دو ہزار روپے فی ہفتہ بنتی ہے تو اب بھی آپکو اس سے کم یا زیادہ شرح پر ادائیگی نہ ہو گی۔

لیکن ان دونوں قوانین کے تحت مراعات زچگی کے حصول کیلیئے اہلیت کا معیار مختلف ہے۔ مائنز میٹرنٹی ایکٹ کے تحت ان مراعات کو حاصل کرنے کیلیئے ضروری ہے کہ آپ نے اس معدنی کان میں وضع حمل تک کم از کم چھ ماہ کام کیا ہو جبکہ میٹرنٹی بینیفٹس آرڈیننس کے تحت آپ تبھی یہ مراعات حاصل کر سکتی ہیں اگر آپ نے وضع حمل تک کم از کم چار ماہ اس ادارے یا فیکٹری میں کام کیا ہو۔

نیز یہ کہ ان دونوں قوانین کے تحت کو ئی بھی آجر (جانتے ہوئے کہ یہ عورت وضع حمل سے فارغ ہوئی ہے) وضع حمل کے بعد چھ ہفتے گزرنے سے پہلے آپکو کام کیلیئے نہیں کہ سکتا نہ آپکو ملازم رکھ سکتا ہے۔

پراونشل ایمپلائز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس کے تحت بھی آپکو میٹرنٹی بینیفٹ ملتا ہے اگر اگر آپکے ادارے کی طرف سے سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کو پچھلے بارہ کے دوران کم از کم چھ ماہ کے کنٹری بیوشن ادا کیے گئے ہیں۔

رخصت کے ترمیم شدہ قواعد کے مطابق ایک خاتون سول سرونٹ زچگی کی بنا پر نوے دن/تقریباً تیرہ ہفتے کی باتنخواہ چھٹی کی اہل ہیں۔

میں آپنے آجر یا ادارے کی مینجمنٹ کو متوقع وضع حمل کے بارے میں کسطرح آگاہ کروں؟

آپ اپنے آجر یا مینیجر کو زبانی یا تحریری طور پر آگاہ کر سکتی ہیں کہ آپکو ڈیڑھ ناہ کے بعد وضع حمل کی امید ہے تو اس نوٹس کو وصول ہونے کے بعد یہ مینجمنٹ کا فرض ہے کہ وہ آپکو اگلے دن سے ہی رخصت دے دیں۔

آپ بارہ ہفتے کی رخصت اپنے ؤضع حمل کے فوراً بعد بھی شروع کر سکتی ہیں۔

آپکو وضع حمل کے ساتویں دن تک اپنے ادارے کو یہ نوٹس بھی دینا ہوگا کہ آپکا وضع حمل ہو گیا ہے مزید یہ کہ آپکو چھ ماہ کے اندر اندر اپنے ادارے کو وضع حمل کا ثبوت بھی دینا پڑے گا۔

یہ ثبوت ہسپتال کے رجسٹر پیدائش کی تصدیق شدہ کاپی بھی ہو سکتا ہے، کسی میڈیکل پریکٹیشنر یعنی ڈاکٹر کا دیا ہوا سر ٹیفیکیٹ یا کوئی اور ثبوت، جو آپکے آجر کیلیئے قابل قبول ہو، بھی ہو سکتا ہے۔

کیا میں زچگی کے دوران طبی دیکھ بھال کی حقدار ہوں؟

پراونشل ایمپلائز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس کے تحت آپ بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں طبی دیکھ بھال کی حقدار ہیں۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ پچھلے چھ ماہ میں آپکے ادارے کی طرف سے آپ کیلیئے کم از کم نوے دن کا چندہ /کنٹری بیوشن ادا کیا گیا ہو۔

میں اپنی زچگی سے متعلقہ تنخواہ کس وقت وصول کر سکتی ہوں؟

میٹرنٹی بینیفٹس آرڈیننس کے تحت، آپ یہ رقم تین طریقوں سے ؤصول کر سکتی ہیں۔

اگر آپ نے بچے کی پیدائش سے پہلے چھ ہفتے چھٹی لی تو جب اس وقت آپکو چھ ہفتوں کی تنخواہ ادا کی جائے گی جبکہ باقی ماندہ چھ ہفتوں کی تنخواہ، اس ثبوت کے پیش کرنے پر کہ آپکا وضع حمل ہو گیا ہے، کے اڑتالیس گھنٹے کے اندر ادا کی جائے گی۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وضع حمل اور اسکے ثبوت کے پیش کرنے کے بعد اڑتالیس گھنٹوں کے اندر آپکو پہلے چھ ہفتوں کی ادائیگی کر دی جائے جبکہ باقی رقم چھ ہفتوں کے دوران ادا ک دی جائے۔

تیسری صورت یہ ہے کہ وضع حمل اور اسکے ثبوت کے پیش کرنے کے بعد، آپکو تمام واجبات کی ادائیگی اڑتالیس گھنٹوں کے اندر کی جائے۔

کیا زچگی کیلیئے رخصت کی کوئی حد ہے اور میں کتنی دفعہ یہ رخصت لے سکتی ہوں؟

نجی شعبے/پرائیویٹ سیکٹر پر قابل اطلاق قوانین میں کہیں بھی یہ نہیں اسکی حد نہیں مقرر کی گئی کہ یہ رخصت کتنے بار لی جا سکتی ہے

تاہم پبلک سیکٹر میں ایک خاتون سول سرونٹ اپنے پوری مدت ملازمت/کیریئر میں تین دفعہ سے زائد زچگی کی رخصت نہیں لس سکتی۔ اگر وہ تیسری دفعہ کے بعد بھی چھٹی لینا چاہتی ہے تو اسے یہ چھٹی اپنے لیو اکاؤنٹ/حساب ڑخصت سے لینا ہوگی۔

کیا میرا آجر یہ رخصت لینے کی بنا پر میرے ساتھ امتیازی سلوک کر سکتا ہے؟

آپکا آجر مراعات زچگی کی ادائیگی سے بچنے کیلیئے آپکے وضع حمل سے چھ ماہ قبل بھی آپکو ملازمت سے نکال نہیں سکتا جب تک کہ اسکے پاس اس فیصلے کی معقول وجوہ نہ ہوں۔ 

اور اگر آپکا آجر آپکو اس زچگی کی رخصت کے دوران ہی ملازمت سے نکال دیتا ہے تو یہ غیر قانونی ہے۔

 

Click here for English Version

 

 

loading...