پاکستان میں بیماری کی رخصت اور انتفاعات علالت

پاکستان میں درج ذیل قوانین ایسے ہیں جو کہ حالت علالت میں انتفاعی نوعیت کے پہلو رکھتے ہیں
پاکستان میں کارکنوں کی بیماری  کے متعلق کون کونسے قوانین موجود ہیں جو مختلف معاملات یعنی بیماری کی  رخصت، حالت علالت میں کارکنوں کو حاصل شدہ مختلف فوائد سے بحث کرتے ہیں؟ 

 

 

 

 

پاکستان میں درج ذیل قوانین ایسے ہیں جو کہ حالت علالت میں انتفاعی نوعیت کے پہلو رکھتے ہیں  اور کسی حادثہ کی صورت میں کارکنوں کو معاوضہ دینے کے متعلق بات کرتے ہیں

 

 

 

قانون معاوضہ کارکنان  1923

 

پراونشل ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس  1965

 

ویسٹ پاکستان انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ (سٹینڈنگ آرڈرز) آرڈیننس 1968

 

 

 

قانون معاوضہ کارکنان کا اطلاق ان تمام کاروباری اور تجارتی اداروں، ریلویز، معدنیات/مائنز، پر ہوتا ہے جنمیں دس یا دس سے زیادہ کارکن کام کر رہے ہوں۔ اس قانون کا اطلاق روڈ ٹرانسپورٹ سروس پر بھی ہوتا ہے۔  اس کے متعلق مزید معلومات کیلیئے اس قانون کا  دوسراشیڈول دیکھیں۔ 

 

پراونشل ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس کا اطلا ق  /ان تمام کاروباری، تجارتی اور دیگر اداروں پر ہوتا ہے جنمیں پانچ یا اس سے زیادہ کارکن ملازم ہوں جنکی ماہانہ تنخواہ دس ہزار روپے تک ہو تاہم یہ امر ضرور ذہن نشین رہے کہ  بعد ازاںتنخواہ  میں دس ہزار روپے سےاضافہ ایک کارکن کو  اس قانون کے اطلاق سے خارج نہیں کرتا۔ نیز اس قانون کا اطلاق تمام کارکنوں پر ہوتا ہے چاہے وہ مستقل ملازم ہوں، ڈیلی ویجر/دیہاڑی دار مزدور ہوں، کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہوں یا کسی ٹھیکیدار نے انہیں ملازم رکھا ہو۔ 

 

تاہم اس قانون کا اطلاق ان اشخاص پر نہیں ہوتا جو مملکت کی ملازمت میں ہوں جنمیں مسلح افواج، پولیس اور ریلوے کے ملازمین شامل ہیں۔ ایسے اشخاص جو کسی دفاعی ادارے کے زیر اھتمام منصوبے یا ریلوے کی انتظامیہ کے ماتحت کام کر رہے ہوں ، ایسے اشخاص جو کسی لوکل کونسل، میونسپل کمیٹی، کنٹونمنٹ بورڈ یا کسی اور لوکل اتھارٹی کی ملازمت میں ہوں، وہ اشخاص جو اپنے والدین، بیوی، بیٹا ، بیٹی، یا داماد کی ملازمت میں ہوں  اور وہ اشخاص جنکی ماہانہ تنخواہ دس ہزار روپے سے زیادہ ہو۔

 

 

 

 سٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس کا اطلاق ان تمام کاروباری اور تجارتی اداروں پر ہوتا ہے (خصوصی طور پر اسکے سیکشن دس۔بی کا ) جنمیں پچھلے بارہ ماہ کے دوران کسی بھی دن میں پچاس یا اس سے زیادہ کارکن کام کر رہے ہوں۔ 

 

 

 

ان قوانین کے تحت کون کون سے فوائد فراہم کیے جاتے ہیں؟ 

 

 

 

قانون معاوضہ کارکنان کے تحت ایک آجر کا فرض ہے کہ وہ  حادثات کے نتیجے میں پہنچنے والے ضرر/نقصانات کیلیئے کارکنوں کو معاوضہ ادا کرے۔ اگر حادثے کے نتیجے میں ایک کارکن اپنی جان  سے ہاتھ دھو  بیٹھتا ہے یا مستقل معذوری  کا شکار ہوجاتا ہے تو آجر کیلیئے ضروری ہے کہ اسے یا اسکے متوسلین/لواحقین کو مبلغ دولاکھ کی رقم ادا کی جائے۔ سن2007     میں کی گئی قانون کی  ترمیم سے پہلے یہ معاوضاتی رقم صرف ان کارکنوں کو ملتی تھی جنکی اجرت کی آخری حد مبلغ چھے ہزار روپے  ماہانہ یا اس سے کم تھی تاہم  اس ترمیم کے بعد تمام کارکن یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔سوشل سیکیورٹی کے قانون کے مطابق اگر حادثہ کی وجہ سے ملازم کی روزی کمانے کی صلاحیت  سڑسٹھ  (67)فیصد تک کم ہو گئی ہو تو اسے اسکی ماہانہ آمدنی کا پچھتر(75) فیصد اداکیا جائے گا (پنجاب میں یہ شرح سو فیصد ہے) ۔ اور اگر حادثہ کی وجہ سے ملازم کی روزی کمانے کی صلا حیت چھیاسٹھ (66) فیصد یا اس سے کم ہو جاتی ہے ، تو یہ فوائد /انتفاعات قانون میں دی گئی ہدایات کے مطابق ہی دیئے جاتے ہیں۔ ( مزید معلومات کیلیئے ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی بینیفٹ ریگولیشنز مجریہ 1967 دیکھیں) ۔ اسے معذوری کی پنشن بھی کہا جاتا ہےاور یہ  قانون کی دفعہ چالیس کے تحت ختم ہو جاتی ہے اگر 

 

وصول کنندہ وفات پا جائے

 

 جب معذوری ختم ہوجائے

 

 یا جب کلی یا جزوی معذوری باقی نہ رہے۔ 

 

 

 

اگر حادثہ کی وجہ سے عارضی معذوری، چاہے کلی یا جزوی، پیدا ہو تو قانون معاوضہ کارکنان ایک سال کی مدت تک ماہانہ  اجرت کا نصف  ادا کرنے کا حکم دیتا ہے تاہم اگر کارکن کو پھیپھڑوں کا دائمی مرض لگ جائے تو اسے پانچ سال کی مدت تک ماہانہ اجرت کا تیسرا حصہ ادا کرنے کی ہدایت کی گئ ہے۔ مزید بر آں، سوشل سیکیورٹی کا قانون بھی عارضی معذوری  کی صورت میں انتفاعی اقدامات کا حکم دیتا ہے (پراونشل ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس کی دفعہ انتالیس کے تحت اسے انجری بینیفٹ/انتفاع  ضرر کہا گیا ہے) ، صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اسکی شرح ماہانہ اجرت کا ساٹھ (60)فیصد ہے جبکہ پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں اسکی شرح سو فیصد ہے۔ یہ فوائد/انتفاعات تین دن کے ویٹنگ پیریڈ /مدت انتظارکے بعد ایک سو اسی دن (180) تک ادا کیے جاتے ہیں (پنجاب میں یہ ویٹنگ پیریڈ ختم کر دیا گیا ہے)

 

 

 

جہاں تک سٹینڈنگ آرڈرز آرڈیننس کا تعلق ہے یہ ہر اس کاروباری اور تجارتی ادارے جسمیں پچاس یا اسے زائد کارکن ملازم ہوں  کیلیئے لازمی قرار دیتا ہے کہ وہ اپنے مستقل کارکنوں کا طبعی موت، معذوری، موت  اور  حادثہ کی تمام صورتوں میں  بیمہ /انشورنس کروائے   بجز ان صورتوں کے جو   قانون معاوضہ کارکنان یا سوشل سیکیورٹی آرڈیننس کے زمرے میںآتے ہوں۔ ہر کارکن کا بیمہ کم از کم اتنی رقم کا کیا جائے جو قانون معاوضہ کارکنان کے شیڈول چار میں دی گئی ہے یعنی، مبلغ دو لاکھ روپے۔ مزید یہ کہ یہ آجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیمہ کیلیئے پریمیئم ادا کرے اور کارکنوں سے کوئی کنٹری بیوشن/حصہ/چندہ  ڈلوانا غیر قانونی تصور ہوگا۔ 

 

 

 

ان قوانین  کی روشنی میں اہلیت کی شرائط کیا ہیں؟ 

 

 

 

قانون معاوضہ کارکنان ایک آجر کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ ایک کارکن کو کسی بھی ایسے حادثے کی وجہ سے ہونے والے نقصان کی تلافی کرے جو اس کارکن کی ملازمت سے متعلق اور اسکے دوران واقع ہوا ہو۔ کسی بھی حادثے کے تناظر میں اصطلاح ،ملازمت سے متعلق اور اسکے دواران حادثہ کا وقوع نہایت اہم ہیںاور معاوضہ حاصل کرنے کیلیئے ایک کارکن کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اسکی ملازمت/فرائض منصبی کی انجام دہی اس حادثہ کی وجہ بنی اور یہ حادثہ دوران ملازمت (اوقات کار) ہی پیش آیا۔ مثال کے طور پر اگرایک کارکن آفس آجر کی مہیا کی گئی پک اینڈ ڈراپ سروس کے ذریعے سے آتا ہے اور راستے میں اسکا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے تو یہ حادثہ ملازمت کے دوران پیش آیا جبکہ اگر ایک ملازم اپنی گاڑی پر آفس آرہا ہو اور حادثہ ہو جائے تو ضروری نہیں کہ اسے معاوضہ دیا جائے تاہم کسی بھی معاوضاتی انتفاع کا تعین کرنے کیلیئےکورٹ یا کمشنر قانون معاوضہ کارکنان  مختلف پہلوؤں یعنی جائے حادثہ کی آفس سے دوری اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گا۔ 

 

 

 

قانون میں چند استثنائی صورتوں کابھی ذکر ہے ۔ آجر ایسی چوٹ یا زخم کیلیئے معاوضہ دینے کا ذمہ دار نہیں ہے جس سے کارکن کو کلی یا جزوی معذوری چار دن سے زیادہ عرصے کیلیئے پیدا نہ ہو  اور آجر ان صورتوں میں بھی معاوضہ اداکرنے کا ذمہ دار نہ ہوگا اگر ملازم حادثے کے وقت شراب یا منشیات کے زیراثر تھا، ملازم نے کسی ضروری حکم اور تاکیدی ضابطے کی جان بوجھ کر نافرمانی کی یا اس نے اگر کوئی سیفٹی گارڈ/حفاظتی اقدام  یا کوئی اور آلہ جو کارکنوں کی حفاظت کیلیئے لگایا تھا کو توڑ کر یا نظر انداز کرتے ہوئے آگے چلا گیا۔ 

 

 

 

قانون معاوضہ کارکنان کے تحت ایک ملازم کیسے اپنا معاوضہ وصول کرسکتا ہے؟

 

 

 

اس قانون کی دفعہ (5)3 کے تحت ایک ملازم تین طرح سے اپنا حق آجر سے وصول کر سکتا ہے۔

 

 یا تو وہ اس حادثے کے سلسلے میں متعلقہ آجر کیخلاف دیوانی عدالت میں ہرجانے کا مقدمہ دائر کرے،

 

 یا وہ کمشنر معاوضہ کارکنان کے روبرو اس چوٹ کے سلسلے میں معاوضے کا دعوٰی دائر کرے 

 

یا وہ اور اسکا آجر آپس میں اس چوٹ کے سلسلہ میں معاوضے کی ادائیگی کا سمجھوتہ کرلیں۔

 

 اگر کارکن آخر میں بتائے گئے دوطریقوں میس سے کسی ایک پر عمل کرتا ہے تو وہ دیوانی عدالت میں مقدمہ نہیں کرسکتا جبکہ اگر وہ پہلا طریقہ استعمال کرتا ہے تو اسے قانون معاوضہ کارکنان کے تحت اپنے حق کو چھوڑنا پڑےگا۔ 

 

 

 

حادثات کے علاوہ ، ملازمین کو مخصوص پیشہ ورانہ امراض  بھی لاحق ہوسکتے ہیں جو کلی یا جزوی معذوری کی وجہ بن سکتے ہیں۔ یہ امر ذہن نشین رہےکہ اگر ایک ملازم مسلسل چھے ماہ تک کسی ایسے روزگار میں ملازم رہا ہو جسکے متعلق شیڈول تین کے دوسرے حصہ میں وضاحت کی گئی ہے  تو اسطرح کے مرض لگنے کو حادثے کے ذریعے چوٹ لگنا ہی کہا جائے گا  اور اس مرض کو ملازمت سے متعلق اور اسکے دوران واقع ہوا تصور کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت نوٹیفیکیشن کے ذریعے سے کسی اور ملازمت کو اس شیڈول میں شامل کر سکتی ہے 

 

 

 

پراونشل ایمپلائز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس کے تحت کون کون سے فوائد دیئے جا سکتے ہیں؟ 

 

 

 

آرڈیننس کا پانچواں باب مختلف قسم کے فوائد کا ذکر کرتا ہے جنمیں انتفاع بیماری/سکنس بینیفٹ، انتفاع زچگی/میٹرنٹی بینیفٹ، ڈیتھ گرانٹ، طبی دیکھ بھال(اپنے لیے اور متوسلین کے لیے)، انتفاع ضرر/انجری بینیفٹ، معذوری پنشن، معذوری گریجویٹی، اور پسماندگان کی پنشن شامل ہیں۔ 

 

 

 

انتفاع بیماری 

 

 

 

ایک تحفظ یافتہ  شخص (جس کیلیئے پچھلے چھے ماہ میں کم ازکم نوےدن کا کنٹری بیوشن ادا کیا گیا ہو) اپنی بیماری کی پوری مدت کے دوران انتفاع بیماری/بیماری کے فوائد حاصل کرنے کا حقدار ہو گا۔ اگر کسی ملازم کو تپ دق یا کینسر /سرطان ہو جائے ، تو ایک تحفظ یافتہ شخص کو ایک سال کےعرصے کے دوران تین سو پینسٹھ دنوں کیلیئے ماہانہ اجرت کا سو(100) فیصد ادا کیا جائے گا (خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں یہ شرح پچاس فیصد ہے)۔ جبکہ کسی اور بیماری کی صورت میں وہ تحفظ یافتہ شخص ایک سال میں  ایک سواکیس دن تک  یہ فائدہ حاصل کرسکتا ہے ۔ پنجاب اور سندھ میں  اسکی ماہانہ اجرت کا پچھتر فیصد ادا کیا جائے گا جبکہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں یہ شرح پچاس فیصد ہی ہوگی۔ 

 

 

 

میٹرنٹی بینیفٹ

 

 

 

میٹرنٹی بینیفٹس کا ذکر پہلے ہی زچگی کی رخصت اور دیگر مراعات والے سیکشن میں کیا جا چکا ہے۔ میٹرنٹی بینیفٹس پر معلومات کیلیئے یہ لنک کھولیں۔ 

 

 

 

ڈیتھ گرانٹ

 

اگر کسی تحفظ یافتہ شخص کی وفات ہو جاتی ہےجب وہ انتفاع بیماری، انجری بینیفٹ یا طبی دیکھ بھال لے رہا تھا تو اسکے پسماندگان ڈیتھ گرانٹ کا حقدار ہوں گے جو کہ انتفاع بیماری کی شرح کا تیس گناہوگی اور1500 روپے سے کم نہ ہوگی۔ اس گرانٹ کو تجہیزوتکفین کے اخراجات بھی کہا جاسکتا ہے۔ 

 

 

 

قانوں میں ایک تحفظ یافتہ عورت کیلیئے، جسکے شوہر کا انتقال ہو گیاہو ، انتفاع عدت کا بھی ذکر ہے اور وہ اسکے مطابق عدت کے دوران اپنی یومیہ اجرت کے برابر عدت کے فوائد حاصل کرنے کی حقدار ہو گی۔ مزید یہ کہ کوئی آجر بھی عدت کی چھٹی دینے سے انکارنہیں کرے گا اور اس خاتون کے ساتھ امتیازی سلوک  روانہیں رکھےگا۔ 

 

 

 

نوٹ: عدت اسلامی قانون کی روشنی میں انتظار کا وہ عرصہ ہے جو ایک خاتون کو ایک خاص مدت تک اپنے گھر میں قیام پذیر رہنےکا حکم دیتا ہے۔ عدت کی مدت کی دو مزید صورتیں ہیں ایک موت کی عدت ہے جبکہ دوسری طلاق کی عدت ہے اسمیں طلاق ، خلع   یا کسی بھی اور طریقہ سے نکاح کے باطل ہونے کی تمام صورتیں شامل ہیں)۔ شوہر کی موت کی صورت میںقرآن وسنت کے احکام کے پیش نظر چار ماہ دس دن ہے۔ 

 

 

 

اپنے اور متوسلین کے لیے طبی دیکھ بھال/میڈیکل کیئر

 

 

 

قانون میں بیماری اور زچگی کے دوران طبی دیکھ بھال کا ذکر ہے  اور فوائد میں جنرل میڈیکل کیئر، سپیشلسٹ کیئر، ادویہ، ضرورت کی صورت میں ہسپتال میں داخلہ اور حاملہ عورت کی دیکھ بھال شامل ہیں۔ قانون  کے مطابق تحفظ یافتہ شخص کی وفات کے ایک سال بعد تک اسکے متوسلین طبی دیکھ بھال کے حقدار ہوں گے بشرطیکہ متوفی وفات سے فوراً  پیشتر اس ادارے میں بارہ ماہ تک لگاتار ملازم رہا ہواور اگر متوفی ایک موسمی ملازم تھا تو اسکے متوسلین اسکی وفات سے چھے ماہ بعد  تک طبی دیکھ بھال کے حقدار ہوں گے۔ 

 

 

 

ہم انجری بینیفٹ کا پہلے ہی اوپر ذکر کرچکے ہیں۔ اسے انتفاع عارضی معذوری  بھی کہا جاتا ہے اور اسکی زیادہ سے زیادہ مدت ایک سو اسی دن ہے۔ 

 

 

 

پسماندگان کی پنشن

 

 

 

آرڈیننس کی دفعہ بیالیس کے تحت پسماندگان کی پنشن انکو ایک خاص شرح سے ادا کی جاتی ہے اور اسکی زیادہ سے زیادہ حد کلی معذوری کی پنشن ہےجسکا تحفظ یافتہ شخص حقدار تھا یا ہوتا۔ (ہم کلی معذوری کیلیئے شرح ادائیگی پہلے ہی بتا چکے ہیں)

 

قانون کے مطابق ایک تحفظ یافتہ شخص کی کلی معذوری کی پنشن کا ساٹھ فیصد اسکی بیوہ/بیواؤں یا ضرورت مند رنڈوے میں تقسیم کرنی چاہیئے۔ 

 

 

 

ہر وہ یتیم جسکی عمر اکیس سال سے کم ہو وہ کلی معذوری کی پنشن کا بیس فیصد وصول کر گا (غیر شادی شدہ بچیوں کیلیئے عمر کی کوئی حد نہیں ہے)جبکہ اگر بچہ کامل یتیم ہو (یعنی ماں باپ دونوں وفات پا چکے ہوں) تو پنشن کی شرح کلی معذوری کا چالیس فیصد ہو گی۔ 

 

تاہم یہ یا د رکھنا ضروری ہے کہ پسماندگا ن کی پنشن مجموعی طور پر تحفظ یافتہ شخص کی کلی معذوری کی پنشن سے تجاوز نہ کرے۔ پسماندگان کی پنشن تحفظ یافتہ شخص کی موت پر واجب الادا ہوگی تاہم ان صورتوں میں یہ ختم ہو جائے گی 

 

 پسمانگان کی وفات پر ،

 

 یا بیوہ کی دوسری شادی کرنے پر

 

 یا اگر پسماندہ متوسل بچہ ہو تو اسکی عمر اکیس سال ہونے پر  ( تاہم غیر شادی شدہ بچیوں کیلیئے عمر کی حد نہیں ہے)

 

 

 

کیا یہ قوانین ان کارکنوں کو ،جو اوپر دیئے گئے انتفاعات سے  متمتع ہوتے  ہیں ، آجر کے امتیازی سلوک سے بچاتے یں؟

 

 

 

پراونشل ایممپلائیز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس کے تحت کوئی آجر بھی کسی ایسے ملازم کو ڈسمس/برطرفی، ڈسچارج/برخاستگی یا اسکے عہدے میں تخفیف نہ کرےگا اور نہ کسی دوسرے طریقے سے سزادےگا جس عرصے کے دوران وہ ملازم انتفاع بیماری/زچگی، انجری بینیفٹ یا طبی دیکھ بھال لے رہا ہو۔ اسی طرح سے یہ قانون عدت پوری کرنے والی خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔

loading...