ملازم پیشہ والدین اور بچے

آئین پاکستان اور قوانین محنت کے تحت ملازم پیشہ والدین اور ماؤں کوخصوصی حقوق حاصل ہیں۔ آپکے بچوں اور دیگر متوسلین کیلیئے طبی دیکھ بھال مفت ہے جبکہ آئین پاکستان کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک سے آپکی حفاظت کرتا ہے

میں ایک ملازمت پیشہ دو بچوں کی ماں ہوں۔ کیا میرا متوقع آجر اس بنیاد پر میرے ساتھ امتیازی سلوک کر سکتا ہے؟ 

آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کے مطابق آپ سے جنس کی بنیاد پر کوئی امتیازنہیں برتا جا سکتا۔ نیز یہ کہ آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت آپکو کوئی بھی جائز پیشہ یا مشغلہ اختیار کرنے اور کوئی بھی جائز کاروبار یا تجارت کرنے کا حق ہے۔

اگر آپ ملازمت کیلیئے دی گئی تمام شرائط پر پورا اترتی ہیں تو آپکے ساتھ امتیازی اور تفریقی سلوک روا نہیں رکھا جا سکتا۔ اس سے متعلق آئین کے آرٹیکل27  میں ہے کہ کوئی بھی شہری جو حکومت پاکستان میں ملازمت کے تقرر کا اہل ہو اس سے اس تقرر کے سلسلے میں نسل، مذہب، ذات، جنس، سکونت یا مقام پیدائش کی بنا؍ پر کوئی امتیاز روا نہ رکھا جائے گا۔اگرچہ اس آرٹیکل میں غیر امتیازی سلوک کیلیئے 'شادی شدہ ہونے یا ماں' ہونے کی شرائط کا ذکر نہیں ہے لیکن ان دونوں شرطوں کا تعلق جنس کے ساتھ ہے یعنی اگر ایک عورت کے ساتھ جنس کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جا سکتی تو اسیطرح اسکے ساتھ شادی شدہ ہونے یا اسکے ماں ہونے کی صورت میں بھی تفریق نہیں کی جا سکتی۔ 

کیا بچوں والی ملازمت پیشہ خواتین کیلیئے قانون میں کوئی خصوصی گنجائش رکھی گئی ہے؟

آئین پاکستان کے آرٹیکل 37 کے مطابق ریاست تمام لوگوں کیلیئے نرم اور منصفانہ شرائط کار، بشمول عورتوں اور بچوں کے، مقرر کرنے کیلیئے احکام وضع کرے گی۔لیبر پروٹیکشن پالیسی اور لیبر پالیسی کے تحت ملازمت ہیشہ ماؤں کے بچوں کیلیئے ڈے کیئر کی سہولیات مہیا کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

ملازمت پیشہ ماؤں کے بچوں کیلیئے ڈے کیئر مہیا کرنے کا فیکٹریز ایکٹ میں بھی کہا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے سیکشن 33 کے مطابق صوبائی حکومت کسی بھی اس فیکٹری جسمیں پچاس یا اس سے زیادہ خواتین ملازم ہوں کے چھ سال سے کم عمر بچوں کیلیئے ایک کمرہ ریزرو/محفوظ کرنے کیلیئے قواعدو ضوابط وضع کر سکتی ہے۔ پنجاب فیکٹریز رولز1978 کے تحت یہ کمرے صرف بچوں، انکی اٹنڈنٹس/دیکھ بھال کرنے والے ملازمین اور بچوں کی ماؤں کیلیئے ہی مختص ہوں گے اور انکے سوا کوئی ان کمروں میں آجانہیں سکتا۔فیکٹری یا ادارے کیلیئے یہ بھی لازم ہو گا کہ وہ بچوں کی دیکھ بھال کیلیئے ایک مہارت یافتہ نرس اور ایک خاتون نوکر/آیا رکھے۔ مائیں اس کمرے میں کام کے وقفوں کے دوران بچوں کو اپنا دودھ بھی پلا سکتی ہیں۔

اگر آپ اسلام آباد میں رہتی ہیں تو آپ اپنے چھ سال سے کم عمر بچے کو  وزارت ترقی خواتین کے تحت چلنے والے ڈے کیئر سنٹر میں بھی چھوڑ سکتی ہیں۔ مزید معلومات کیلیئے یہ لنک کھولیے۔

http://www.mowd.gov.pk/daycarecentre.html

فیکٹریز ایکٹ کے سیکشن21 کے تحت خواتین کیلیئے باپردہ اور علیحدہ ٹوائلٹس/بیت الخلا مہیا کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ 

میرے بچوں اور دیگر متوسلین کی میڈیکل کیئر/طبی دیکھ بھال کیلیئے کیا قانون میں کوئی گنجائش ہے؟

پراونشل ایمپلائز سوشل سیکیورٹی آرڈیننس1965  میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ اگر آپ ایک تحفظ یافتہ ملازم ہیں (یعنی آپکا آجر آپکے حصے کا کنٹری بیوشن سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کو اداکر رہا ہے یا کر رہا تھا) تو آپ اور آپکے متوسلین مناسب طبی دیکھ بھال کے حقدار ہوں گے۔ کسی بیماری کی صورت میں آپکا یا آپکے بچوں کا علاج یا تو سوشل سیکیورٹی ہسپتال یا کسی اور ہسپتال، جسکے ساتھ آپکے آجر نے اپنے ملازمین کے علاج معالجے کو معاہدہ کیا ہو، میں کیا جائیگا۔

اسیطرح سے ملازم کی موت کی صورت میں اسکے متوسلین ایک سال تک طبی دیکھ بھال کے حقدار ہوں گے بشرطیکہ وہ پچھلے بارہ ماہ مسلسل ملازمت میں رہا ہو۔

اور کسی موسمی ملازم کی موت کی صورت میں اسکے متوسلین چھ ماہ تک طبی دیکھ بھال کے حقدار ہوں گے بشرطیکہ اسکی وفات سے پہلے کے دو لگاتار موسموں میں اسکی مدت ملازمت چھ ماہ سے کم نہ ہو۔<

کیا قوانین میں میرے بچوں کی تعلیم کے بارے میں کچھ ہے؟

سب سے پہلی بات تو یہ کہ آئین کے آرٹیکل   کے تحت اب یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپکے بچوں کی (جنکی عمریں پانچ سے سولہ سال کے درمیان ہوں) کی لازمی تعلیم کا مفت انتظام کرے (یعنی میٹرک تک)۔

ملازمین کے بچوں کو تعلیم مہیا کرنے کیلیئے ایک خصوصی قانون بنایا گیا ہے اور یہ آجران پر ٹیکس عائد کرتا ہے تاکہ ملازمین کے بچوں کی تعلیم کیلیئے فنڈ اکٹھے کیے جا سکیں۔ اسطرح سے اکٹھا کیا گیا فنڈ بچوں کو تعلیمی سہولیات مہیا کرنے  اور صنعتی اداروں کی حدود کے اندر یا ملحقہ آبادیوں کے سکول بہتر بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔

ورکرز چلڈرن ایجوکیشن آرڈیننس1972  کا اطلاق کسی بھی اس ادارے پر ہوتا ہے جسمیں ایک سال کے دوران کسی بھی وقت دس یا اس سے زیادہ افراد ملازم تھے۔ ان اداروں پر ایک سال میں ایک سو روپیہ فی ملازم ٹیکس عائد کیا جاتا ہے اور ان فنڈز کی کولیکشن اور ایڈمنسٹریشن سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے پاس ہے۔

اس قانون کے تحت ورکر کوئی بھی وہ فرد ملازم ہے جو مہارت یافتہ، غیر مہارت یافتہ، دستی مزدور یا کلیریکل ورکر ہو لیکن جسکی اجرت تین ہزار روپے سے زائد نہ ہو تاہم ایک ورکر اس قانون کے تحت تب بھی ورکر ہی رہے گا اگر اسکی تنخواہ تین ہزار سے بڑھ جائے یا ادارے میں ملازم افراد کی تعداد دس سے کم ہو جائے۔

صوبائی حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ آپکے دو بچوں (صرف دو) کو کسی بھی ایجوکیشن لیول (چاہے ڈاکٹریٹ ہو) تک مفت تعلیم دلانے کا انتظام کرے۔ اس کیلیئے آپکو اپنے آجر کے توسط سے ڈسٹرکٹ کمیٹی کو درخواست دینا ہوتی ہے۔ یہ ڈسٹرکٹ کمیٹی اور صوبائی بورڈ اس بات کو تعین کر گا کہ آپکے بچوں کو تعلیم کیلیئے مالی مدد فراہم کی جانی چاہیئے یا نہیں۔مالی مدد کیلیئے مہیا کی جانے والی رقم تعلیمی ادارے کے سربراہ کو براہ راست بھیجی جائے گی اور وہ آپکے بچوں کی تعلیمی پیشرفت کے بارے میں سہ ماہی رپورٹس بھی جمع کرائیگا۔ 

آپکی ملازمت جانے کی صورت میں (چاہے وہ تخفیف ملازمین کی وجہ سے ہو یا آپکو ٹرمینیٹ یا ڈسمس کیا گیا ہو) یا آپکے بچوں کی تعلیمی پیش رفت قابل ذکر نہ ہونے کی صورت میں (جب وہ ایک ہی کورس میں لگاتار دو دفعہ فیل ہوں) تو اس صورت میں مالی مدد واپس بھی لی جا سکتی ہے۔

 

Click here for English Version

 

 

loading...