چائلڈ لیبر اور پاکستان

آئین پاکستان اور قوانین محنت میں چودہ سال سے کم عمر بچوں کی ملازمت پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔

چائلڈ لیبر سے کیا مراد ہے؟ براہ کرم رہنمائی کریں۔

آئی۔ایل۔او اور یونیسیف کے مطابق بچوں کے کیے گئے ہر کام کو چائلڈ لیبر نہیں قرار دیا جا سکتا۔ چائلڈ لیبر یعنی بچوں کی مشقت اور چائلڈ ورک (بچوں کے کام) میں امتیاز کرنے کی ضرورت ہے۔اگر چائلڈ ورک بچے کی شخصی و جسمانی نشوونما اور اسکی تعلیم پر برا اثر نہیں ڈال رہا تو اس طرح کے کام کو چائلڈ لیبر نہیں قرار دیا جائے گا مثلاً اگر ایک بچہ سکول سے واپس آکر یا سکول کی تعطیلات کے دوران اگر کام کرتا ہے یا فیملی بزنس میں ہاتھ بٹاتا ہے تو اسے چائلڈ لیبر نہیں قرار دیا جائے گا بلکہ اسطرح کاکام تو بچوں کی شخصی نشوونما کیلیئے نہایت ضروری ہے۔اور نہ صرف انکو ہنر مند بناتا ہے بلکہ انکو معاشر ے کے قابل رکن بننے میں بھی مدد دیتا ہے۔

آئی۔ایل۔او کے مطابق چائلڈ لیبر وہ کام ہے جس سے بچے اپنے بچپن کی امنگوں ، باعزت و پروقار طرززندگی سے محروم ہو جائیں اور جو انکی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی نشوونما کیلیئے نقصان دہ ہو اور جس سے انکی لازمی تعلیم میں حرج ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم چائلڈ لیبر اور چائلڈ ورک میں فرق کیسے کریں ؟ آئی۔ایل۔او کے مطابق اسکا تعین بچے کی عمر، کام کی نوعیت، اوقات اور حالات کار اور ممالک کی ڈویلپمنٹ سٹیج کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیئے۔ (http://www.ilo.org/ipec/facts/lang--en/)

یونیسیف کے مطابق چائلڈ لیبر دراصل وہ کام ہے جو بچے کییلیئے بلحاظ عمر اور کام کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم متعین اوقات سے زیادہ ہو۔ (http://www.unicef.org/protection/index_childlabour.html)

پاکستان میں بچوں سے ملازمت یعنی چائلڈ لیبر کی ممانعت سے متعلق کون کون سے قوانین موجود ہیں؟

اس سے پہلے کہ ہم قوانین محنت کے بارے میں بات کریں، آئیے پہلے چائلڈ لیبر سے متعلق آئینی شقوں کو دیکھتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 3 کے تحت مملکت، استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنائے گی کہ ہر کسی سے اسکی اہلیت کے مطابق کام لیا جائے گا اور ہر کسی کو اسکے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔

آئین کے آرٹیکل 11 کے تحت چودہ سال سے کم عمر بچے کو کسی کارخانے یا کان یا دیگر پرخطر ملازمت میں نہیں رکھا جائے گا۔

آئین کے آرٹیکل 25کے تحت ریاست تمام پانچ سال کی عمر سے لیکر سولہ سال کی عمر کے بچوں کیلیئے لازمی اور مفت تعلیم دینے کا انتظام کرے گی جسکا تعین قانون کر ے گا۔

آئین کے آرٹیکل 37کے تحت ریاست منصفانہ اور نرم شرائط کار، اس امر کی ضمانت دیتے ہوئے کہ بچوں اور عورتوں سے ایسے پیشوں میں کام نہ لیا جائے گا جو انکی عمر یا جنس کیلیئے نا مناسب ہوں، مقرر کرنے اور ملازم عورتوں کیلیئے زچگی سے متعلق مراعات دینے کیلیئے احکام وضع کرے گی۔

:نیچے دیئے گئے قوانین خصوصی طور پر چائلڈ لیبر سے متعلق ہیں

ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991
ایمپلائمنٹ آف چلڈرن رولز1995

انکے علاوہ دیگر قوانین بھی ہیں جو بچوں کی ملازمت سے متعلق ہیں اور کام کرنے والے بچوں کے حالات کار کو ضابطے میں لاتے ہیں۔

مائنز ایکٹ1923
چلڈرن (پلیجنگ آف لیبر) ایکٹ1933
فیکٹریز ایکٹ1934
روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس1961
شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس1969
مرچنٹ شپنگ آرڈیننس2001

پاکستان میں ملازمت کیلیئے کم از کم عمر کی حد کیا ہے ؟

ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ کے تحت بچے سے مراد وہ شخص ہے جسکی عمر چودہ سال سے کم ہو جبکہ نوبالغ وہ ہے جسکی عمر چودہ سال سے زیادہ لیکن اٹھارہ سال سے کم ہو۔ جیسے اوپر ذکر کیا گیا کہ آئین میں بھی کم از کم عمر کی حد چودہ سال ہے لیکن اٹھارویں ترمیم نے دراصل کم از کم عمر کی حد چودہ سال سے بڑھا کر سولہ سال کر دی ہے کیونکہ اب آئین کی پچیسویں شق کے مطابق ریاست کییلیئے ضروری ہے کہ وہ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کیلیئے لازمی اور مفت تعلیم کا انتظام کرے جس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایک بچے سے سولہ سال کی عمر سے پہلے ہر وہ کام جو چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتا ہو کام نہیں کروایا جا سکتا۔

اس قانون میں چند مستثنیات کا بھی ذکر ہے یعنی کچھ صورتوں میں قانون کا اطلاق نہ ہو گا۔

قانون کے مطابق بچوں کو کسی بھی ایسے پیشے، کاروباری ادارے اور پیداواری عمل میں کام کیلیئے نہیں رکھا جا سکتا جسکا تعین خطرناک کام کے طور پر کیا گیا ہو تاہم اگر کوئی بچہ، خاندانی یا نجی کاروبا ر/فیملی بزنس میں مصروف عمل ہے یا کسی ٹریننگ/تربیتی سکول (حکومت کا قائم کردہ یا منظور شدہ) میں ان پیشوں یا پیداواری عملوں سے متعلقٹریننگ لے رہا ہو تو ان پر بچوں کی ملازمت سے متعلق ممانعت کا اطلاق نہ ہو گا۔

بچوں کی ملازمت کی ممانعت کون کون سے پیشوں اور پیداواری عملوں کیلیئے کی گئی ہے؟

ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ / بچوں کی ملازمت کے قانون مجریہ1991 کی دفعہ چار کے تحت وفاقی حکومت ان تمام پیشوں اور پیداواری عملوں کے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کر سکتی ہے جہاں بچوں کی ملازمت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔وفاقی حکومت نے سال 2005 میں ان پیشوں اور پیداواری عملوں کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جہاں بچوں کی ملازمت پر قطعی پابندی ہے۔

شیڈول
(براہ کرم سیکشن 3 دیکھیں )
حصہ اول
پیشے

کو ئی بھی پیشہ جو

مسافروں، سامان یا ڈاک کی بار برداری سے متعلق ہو

ریلوے اسٹیشنوں پر سامان خوردونوش کی سپلائی/باہم رسانی سےمتعلق ہو، جسمیں ملازمین کیلیئے ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم پر جانا شامل ہو یا چلتی ہوئی ٹرین میں چڑھنا یا اترنا شامل ہوں

ریلوے اسٹیشنوں کی تعمیر یا کوئی اور کام جو ریلوے لائنز کے نزدیک یا ریلوے لائنز کے درمیان کیا جارہا ہو

کسی پورٹ اتھارٹی پر کام جو کسی پورٹ /بندرگاہ کی حدود میں کیا جا رہا ہو۔

حصہ دوم
پیداواری عمل

زیر زمین کان میں کام اور پتھر کی کان میں کام کرنا اور کان کنی کیلیئے بلاسٹنگ /دھماکہ کرنا یا اس کام میں مدد دینا
توانائی/بجلی سے چلنے والی مشینیں جیسے آرہ، بڑی قینچیاں، کٹائی مشین، اور زرعی مشینری/آلات جیسے تھریشر، چارہ کاٹنے والی مشین وغیرہ
بجلی کی تاروں کے ساتھ کام جنمیں پچاس وولٹ سے زیادہ بجلی گزر رہی ہو
چمڑے کمانے /دباغت کا کام وغیرہ
کیڑے مار اور حشرات کش ادویات بنانے یا مکس کرنے کا کام
سینڈ بلاسٹنگ کے ذریعے سے سیلیکا علیحدہ کرنے کاکام
ایسا کام جسمیں زہریلے، دھماکہ خیز اور کینسر پیدا کرنے والے مواد کے ساتھ کام کرنا پڑے
سیمنٹ انڈسٹری میں کام
کوئلے کا کام
آتشباز اور دھماکہ خیز مواد کی فروخت
ان جگہوں پر کام کرنا جہاں ایل۔پی۔جی اور سی۔این۔جی سلنڈروں میں بھری جاتی ہے
گلاس ، دھات کی بھٹی پر کام اور کانچ کی چوڑیا ں بنانے کا کام
کپڑے کی بنائی، پرنٹنگ، رنگنے اور مختلف قسم کی تزئین کا کام
سٹون کرشنگ کا کام
پندرہ کلو یا اس سے بھاری وزن اٹھانے یا لیکر چلنے کاکام، خصوصی طور پرٹرانسپورٹ انڈسٹری میں
قالین سازی
فرش سے دو میٹر یا اس سے زیادہ اوپر کا کام
ہسپتا ل کے فضلے سمیت ہر قسم کے فضلے کی صفائی/جاروب کشی
تمباکو بنانے کاکام ، اسمیں نسوار اور بیڑی بھی شامل ہیں
ڈیپ۔سی فشنگ/گہرے سمندی میں ماہی گیری، کمرشل/تجارتی ماہی گیری، اور فش اور دیگر سی۔فوڈ کی پراسیسنگ کا کام
شیپ کیسنگ/ساسیجز بنانے کیلیئے بھیڑ کی انتڑیوں کا استعمال اور بھیڑ کی اون کا کام
شپ بریکنگ
سرجری کے آلات تیار کرنے کا کام
مصالحہ جات پیسنے کاکام
بوائلر ہاؤس کا کام
سینما، منی سینما، سائبر کلبز میں کام
میکا کاٹنے کا کام ، یہ ایک چمکدار سیلیکا منرل ہے جو پتھروں میں پایا جاتا ہے
شیل بنانے کا کا م
صابن بنانے کا کام
اون کی صفائی
بلڈنگ اور تعمیراتی صنعت میں کام
سلیٹ پنسلز کے بنانے اور اسکی پیکنگ کا کام
اگیٹ (ایک پتھر) سے مصنوعات بنانے کا کام

نوٹ: اس نوٹیفیکیشن کی مکمل معلومات کیلیئے انگریزی والا حصہ دیکھیں۔

حکومت بچوں اور نابالغوں کے حالات کار کو کیسے ضابطے میں لاتی ہے؟

ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ کے حصہ سوم اور سیکشن سات کے مطابق ، کسی بھی بچے یا نوبالغ سے ایک دن میں سات گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کروایا جا سکتا (اسمیں آرام کا ایک گھنٹہ بھی شامل ہےگویا اصل میں چھہ گھنٹے کاہی کام کروایا جائے گا) اور کام کی ترتیب یوں رکھی جانا ضروری ہے کہ مسلسل کام کے ہر تین گھنٹے بعد کم ازکم ایک گھنٹہ آرام کا وقفہ دینا ضروری ہے۔

فیکٹریز ایکٹ میں بچوں کی ملازمت سے متعلق شقیں موجود ہیں۔ اس ایکٹ کے پچاسویںسیکشن کے تحت چودہ سال سے کم عمر بچوں کی کسی بھی فیکٹری میں ملازمت پر مکمل پابندی عائد کردی گئ ہے۔ سیکشن اکیاون کے تحت نوبالغ، جنکی عمر چودہ سال سے زیادہ اور اٹھارہ سال سے کم ہے، انکو فیکٹری میں کام کرنی اجازت نہیں ہے جب تک انکے پاس

اہلیت کی سند/فٹنس سرٹیفیکیٹ نہ ہو جو کسی کوالیفائڈ میڈیکل پریکٹیشنر/مستند ماہر طب نے جار ی کیا ہو ، اور یہ سرٹیفیکیٹ متعلقہ فیکٹری کے مینیجر کی تحویل میں ہونا چاہیئے۔

جب وہ کام پر ہوں تو انکے پاس ایسا ٹوکن موجود ہونا ضروری ہے جس پر مذکورہ سرٹیفیکیٹ کا حوالہ موجود ہو۔

کوئی بچہ یا نوبلوغ کسی مشین پر اسوقت تک کام نہ کرے جب تک اس اس مشین سے پیدا ہونے والے تمام خطرات سے پوری طرح آگاہ نہ کردیاگیا ہواور اسکے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات نہ دے دی گئی ہوں اور اس مشین پر کام کرنے کی اس نے کافی تربیت حاصل نہ کر لی ہو اور کسی ایسے شخص کی نگرانی میں کام نہ کر رہا ہو جو اس مشین کے بارے میں کافی علم اور تجربہ رکھتا ہو۔ فیکٹریز ایکٹ کے سیکشن اٹھائیس کے تحت یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خطرناک قسم کی مشینوں کی نشاندہی کرے جن پر کمسن اور نوبلوغ اوپر دی گئی ہدایات کے بغیر کام نہ کریں۔

فیکٹریز ایکٹ کے ہی بتیسویںسیکشن کے تحت عورتوں اور کمسنوں کو ،فیکٹری کے کسی ایسے حصہ میں جہاں کپاس کا کوئی بیلنا چل رہا ہو ، روئی کی گانٹھیں تیار کرنے کیلیئے ملازم رکھنے پر پابندی لگائی گئ ہے۔

شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس کے تحت بچوں سے کسی بھی تجارتی/کاروباری ادارے میں کام نہیں کروایا جا سکتا (سیکشن بیس)۔ جبکہ کم عمروں (یہ اصطلاح کمسنوں/بچوں اور نوبالغوں دونوں کیلیئے اکٹھی استعمال ہوتی ہے یعنی جنکی عمر چودہ سے اٹھارہ سال کے درمیان ہو) سے صبح نو بجے سے لیکر شام سات بجے تک ہی کام کروایا جا سکتا ہے (سیکشن سات)۔اسی طرح سے اس ایکٹ کے سیکشن آٹھ کے تحت، کسی بھی کم عمر کو ایک دن میں سات گھنٹے اور ایک ہفتے میں بیالیس گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

بچوں کی مشقت سے متعلق قانون یعنی چلڈرن (پلیجنگ آف لیبر )ایکٹ کے تحت ہر وہ معاہدہ کالعدم ہے جسمیں کسی بچے کی مزدوری/کام کو کسی معاوضے یا فائدے کے عوض گروی رکھا گیا ہو۔تاہم اس ایکٹ میں ایک استثنائی صورت یہ ہے کہ اگر یہ معاہدہ اسطرح کیا گیا ہو کہ اسکے مضر اثرات بچے پر نہ پڑیں یا بچے کی مزدوری مناسب اجرت کے عوض طے کی گئی ہو اور یہ معاہدہ ایک ہفتے کے نوٹس پر ختم کیا جا سکتا ہو توایسا کا معاہدہ کالعدم نہ ہو گا۔

مرچنٹ شپنگ آرڈیننس کے سیکشن 110 کے تحت کوئی بھی ایسا شخص جسکی عمر پندرہ سال سے کم ہو اسے سمندر/مرچنٹ شمپ میں کام کیلیئے نہیں لے جایا جائے گا تاہم اگر یہ بحری جہاز مرکز تربیت ہو جس پر ٹریننگ دی جاتی ہو یا اس شپ/بحری جہاز میں سب ایک خاندان کے لوگ ہی ملازم ہوں تو اسطرح کی پابندی لاگو نہ ہوگی۔

اگر کوئی آجر بچوں کو ملازمت کیلیئے رکھتا ہے تو اس پر کسطرح کا جرمانہ یا سزا عائد کی جاسکتی ہے؟

ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ کے سیکشن چودہ کے مطابق، جو شخص بھی بچوں کو اوپر بتائے گئے پیشوں یا پیداواری عملوں میں ملازم رکھتا ہے یا اسکی اجازت دیتا ہے تو اسے مبلغ بیس ہزار روپے تک جرمانہ ، یا قید کی سزا جسکی مدت ایک سال تک ہو سکتی ہے، یا دونوں سزائیں اکٹھی دی جا سکتی ہیں۔ اگر وہ شخص دوبارہ اسی طرح کے جرم کا ارتکاب کرے تو اسکی کم از کم سزا چھے ماہ ہے جسکی مدت دوسال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

 

Click here for English Version

 

 

loading...