جبری مشقت اور پاکستان

قرضہ جاتی غلامی جو کہ جبری مشقت کی ایک قسم ہے اور ایشیائی ملکوں اور زرعی معاشروں میں خصوصی طور پر پائی جاتی ہے

جبری مشقت اور قرضہ جاتی غلامی سے کیا مراد ہے؟

 

آئی۔ایل۔او کے مطابق جبری مشقت ہر وہ کام ہے جو کسی شخص سے اسکی مرضی کیخلاف لیا جائے اور وہ شخص یہ کام کسی سزا کے خوف سے کرنے پر مجبور ہو۔ قرضہ جاتی غلامی جو کہ جبری مشقت کی ایک  قسم ہے اور ایشیائی ملکوں اور زرعی معاشروں میں خصوصی طور پر پائی جاتی ہے۔ یہ جبری مشقت دراصل ایک مزدور کے اپنے آجر (مالک/زمیندار/جاگیردار) سے  قرضہ لینے سے شروع ہوتی ہے اور اگر مقروض اس قرض کو ادا کرنے سے قاصر رہے تو  اسے قرض خواہ کیلیئے ایک معینہ یا غیر معینہ مدت کیلیئے مشقت یا خدمت انجام دینا ہوتی ہے۔ 

 

جبری مشقت  پاکستانی معاشرے میں درج ذیل صورتوں میں پائی جاتی ہے:۔

 

الف۔۔۔کسی قرض یا پیشگی رقم (جو متعلقہ شخص یا اسکے خاندان نے لیا/لی ہو)کے عوض جبری مشقت انجام دینا

 

ب۔۔۔کسی سماجی یا رواجی ذمہ داری کی ادائیگی کیلیئے(جاگیرداری نظام کے تحت اپنے علاقے کے غریب لوگوں سے کام لینا)۔ 

 

ج۔۔۔کسی معاشی فائدے  (جو مزدور یا اسکے خاندان نے قرض خواہ سے لیا ہو) کے عوض جبری مشقت انجام دینا 

 

د۔۔۔ضامن کا جبری مشقت انجام دینا (اگر مقروض وقت پر قرض واپس نہ کر سکے اور ضامن کے پاس بھی قرض لوٹانے کو رقم نہ ہو)۔

 

جبری مشقت پاکستان میں زیادہ تر زرعی شعبہ، اینٹ کے بھٹوں (بھٹہ خشت)، گھریلو کام کرنے والوں اور بھکاریوں میں پائی جاتی ہے۔ 

 

 

 

آیاکوئی کام جبری مشقت کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں، اسے کیسے معلوم کیا جا سکتا ہے؟ 

 

نیچے دیئے گئے اشارہ جات کو سامنے رکھتے ہوئے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کوئی کام جبری مشقت تصور کیا جا سکتا ہو یا نہیں

 

ہمیں جبری مشقت کا تعین کرنے  کیلیئے ایک مزدور کے حالات کار کو دیکھنا ضروری ہے جنمیں یہ چیزیں شامل ہیں۔

 

الف۔۔۔اجرت کے ریٹس۔۔۔۔اگر یہ مزدور ،کم از کم اجرت یا اتنی اجرت جو اسطرح کے دوسرے مزدوروں کو عام طور پر ملتی ہے، لے رہا ہے تو وہ جبری مشقت انجام نہیں دے رہا۔ مزید یہ کہ اگر کسی مزدور کا آجر اسکی اجرت میں سےزیادہ کٹوتیاں کر رہا ہے تو وہ بھی جبری مشقت کے زمرے میں آئے گا۔ 

 

ب۔۔۔کیا اسکی اجرت براہ راست اسے ہی دی جاتی ہے یا کوئی اور شخص اسکی اجرت وصول کر کے اپنے پاس رکھ لیتا ہے؟

 

ج۔۔۔اوقات کار۔۔۔کیا اسکے روزانہ کے اوقات کار قانون کے مطابق ہیں (یعنی آٹھ گھنٹے روزانہ اور اڑتالیس گھنٹے ایک ہفتہ میں)۔ اگر اسکا آجر اسے قانون میں دیئے گئے اوورٹائم کے گھنٹوں سے اوپر کام کرنے کیلیئے مجبور کر رہا ہے تو یہ بھی جبری مشقت ہے۔ 

 

د۔۔۔نقل وحرکت اور پیشے کی آزادی۔۔۔کیا وہ مزدور اپنی مرضی سے  (نوٹس دینے کے بعد)یہ کام چھوڑ سکتا ہے  اور کسی اور جگہ جا کر اپنی مرضی سے کوئی نیا پیشہ اختیار کر سکتا ہے؟

 

ہ۔۔۔کاروبار اور تجارت کی آزادی۔۔۔۔کیا وہ مزدور اپنی اور اپنے خاندان کی محنت سے پیدا کردہ مصنوعات کو مارکیٹ میں اور مارکیٹ کے بھاؤ پر بیچ سکتا ہے؟

 

و۔۔۔کیا وہ مزدور کسی پیشگی یا قرضہ جاتی غلامی کے تحت کام کر رہا ہے کیونکہ پیشگی لینے یا دینے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر اس سے قرضہ جاتی غلامی اور جبری مشقت پیدا نہ ہو۔ اور مزدور عام طور پر اپنی ضروریات پوری کرنے کیلیئے اپنے آجروں سے پیشگی کے طور پر رقم لیتے ہیں لیکن ہر پیشگی سے جبری مشقت پیدا نہیں ہوتی۔

 

ز۔۔۔کیا وہ مزدور اپنے اصلی شناختی کاغذات/دستاویزات (جنمیں پاسپورٹس، شناختی کارڈ، ڈومیسائل اور تعلیمی اسناد) اپنے پاس رکھتا ہے یا اسکے آجر نے یہ کاغذات اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔  

 

 

 

پاکستان میں جبری مشقت کے متعلق کون کون سے قوانین موجود ہیں؟ 

 

جبری مشقت کا نظام دراصل ان غریب مزدوروں کا استحصال کرتا ہے جو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلیئے اپنے آجروں، زمینداروں سے قرض لیتے ہیں اور اس قرض کی ادائیگی کیلیئے انکو اپنی بنیادی آزادی بھی گروی رکھنا پڑجاتی ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل3 کے مطابق یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ کو یقینی بنائے نیز بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کرے کہ ہر کسی سے کام اسکی اہلیت کے مطابق اور معاوضہ اسکے کام کے مطابق ہی دیا جائیگا۔ ایک شخص کو جبری مشقت تلے رکھنے سےمراد اسکو تمام بنیادی حقوق سے محروم کرنا ہے جنمیںنقل وحرکت کی آزادی، اجتماعات اور نظریات سے وابستگی کی آزادی انجمن سازی کی آزادی،شخصی آزادی، کاروبار/پیشے کی آزادی، اظہاررائے کی آزادی اورشہریوں کے درمیان مساوات کے حقوق شامل ہیں۔

 

آئین کا آرٹیکل 11 خصوصی طور پر جبری مشقت اور غلامی سے ہی متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ:۔

 

الف۔۔۔غلامی (فی الواقع اور قانوناً)معدوم اور ممنوع ہے اور پاکستان میں کوئی بھی قانون اسے پاکستان میں رواج دینے کی اجازت نہیں دے گا اور اسے کوئی حمایت فراہم نہیں کرے گا۔

 

ب۔۔۔بیگار / جبری مشقت اور انسانوں کی سمگلنگ (یعنی خریدوفروخت) ممنوع ہے۔ 

 

آئین میں دی گئی ہدایات کے علاوہ، حکومت پاکستان نے جبری مشقت کے خاتمے کیلیئے قوانین کا بھی اجرا کیا ہے:۔

 

 

 

الف۔۔۔بانڈڈ لیبر سسٹم (ابولیشن) ایکٹ/جبری مشقت کے خاتمے کا قانون 1992۔

 

ب۔۔۔بانڈڈ لیبر سسٹم (ابولیشن) ایکٹ/جبری مشقت کے خاتمے کے قواعد 1995۔

 

اس قانون کی دفعہ چار کے تحت ، اس ایکٹ کے اجرا پر ملک میں جبری مشقت کا نظام منسوخ کر دیا گیا ہے اور جبری مشقت کرنے والے تمام مزدور آزاد ہیں اور قرض خواہ کیلیئے کسی بھی قسم کی مشقت/خدمت ادا کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔مزید یہ کہ اس ایکٹ کے اجرا سے قبل طے کیا گیا کوئی معاہدہ، رسم ورواج یا ریت جو کسی سے جبری مشقت لینے کے متعلق ہو تمام کالعدم ہیں۔ جبری قرض کی واپسی کیلیئے کسی عدالت میں درخواست دائر نہیں کی جا سکتی اور جبری قرض کی وصولی کیلیئے جاری کیا گیا ہر حکم کالعدم ہے اور یہ قرض وصول شدہ ہی تصور ہوگا۔ اس ایکٹ کے تحت جبری مشقت کرنے والے مزدوروں کو انکی جائیداد  (جو انکے قرض خواہوں نے قرض واپس نہ کرنے کی صورت میں اپنے قبضہ میں لے لی تھی یا گروی رکھی ہوئی تھی) بھی واپس کرنے کا حکم ہے۔نیز قانون کے تحت قرض خواہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس جبری قرض کے بدلے میں اس قانون کے اجرا کے بعد کوئی رقم بطور قرض کی ادائیگی کے نہ لے۔

 

 

 

اس قانون کا عملی نفاذ کیسے یقینی بنایا گیا ہے؟

 

صوبائی حکومت ، ضلعی مجسٹریٹ کو ایسے اختیارات تفویض کر سکتی ہے اور اس پر ایسی ذمہ داریاں عائد کر سکتی ہے جو اس قانون پر عمل درآمد کیلیئے ضروری ہوں۔ 

 

اس قانون کےتحت صوبائی حکومتوں کو ضلعی سطح پر نگران کمیٹیاں بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ جبری مشقت کے خاتمے کے قواعد کے تحت ان قائم ہونے والی کمیٹیوں میں درج ذیل ارکان شامل ہوتے ہیں:۔ 

 

الف۔۔۔منتخب عوامی نمائندے (ضلع ناظم، ممبر قومی /صوبائی اسمبلی)۔

 

ب۔۔۔ضلعی انتطامیہ کے نمائندے (پولیس، عدلیہ، ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر، ڈسٹرکٹ آفیسر لیبر، ہیلتھ، ایگریکلچر)۔

 

ج۔۔۔بار ایسوسی ایشن (صدر)۔

 

د۔۔۔پریس

 

ہ۔۔۔مزدور اور آجر نمائندے، این۔جی۔اوز کے نمائندے 

 

و۔۔۔سوشل سروسز/فلاحی اداروں کے نمائندے 

 

ز۔۔۔ وفاقی اور صوبائی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے

 

اس قانون کے تحت قائم کی گئی ضلعی نگران کمیٹیوں کے فرائض کچھ یوں ہیں:۔

 

الف۔۔۔قانون کے مؤثر نفاذ سے متعلق ضلعی انتظامیہ کو مشورے دینا 

 

ب۔۔۔جبری مشقت سے آزاد شدہ مزدوروں کی بحالی میں مدد دینا

 

ج۔۔۔قانون کے عملی نفاذ کی نگرانی کرنا

 

د۔۔۔قانون کے مقاصد کے حصول کیلیئے جبری مشقت کے مزدوروں کو مدد فراہم کرنا

 

ہ۔۔۔کمپلینٹ آفس ( مرکز شکایت) کا قیام (مزید معلومات نیچے)۔

 

ز۔۔۔قانون کے تحت اپنا کام (جبری مشقت ختم کرنا)کرنے کیلیئے آجر سے معلومات طلب کرنا

 

   جبری مشقت کے خاتمے کیلیئے ایک فنڈ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے اس فنڈ کی رقم کو جبری مشقت کے آزادہ کردہ مزدوروں کو ٹریننگ دینے اور انہیں اور انکے خاندانوں کو قانونی اور مالی امداد فراہم کرنے کیلیئے استعمال کیا جاتا ہے۔

 

حکومت پنجاب اور حکومت خیبر پختونخواہ نے اس فنڈ کے تحت جبری مشقت کے مزدوروں کی قانونی امداد کیلیئے لیگل ایڈ سروس یونٹ    بھی  قائم کیے ہیں۔ 

 

نوٹ:اگر آپ خود جبری مشقت کر رہے ہوں یا کوئی اور شخص جسکے متعلق آپکو معلوم ہو کہ اس سے بیگار کا کام لیا جاتا ہے تو آپ اس ٹول فری ہیلپ لائن پر کال کریں (0800.33888)یا سیکرٹری لیبر، پنجاب کو اپنی درخواست مع شناختی کارڈ بھیجیں۔

 

 

 

اگر ایک آجر (یا کوئی اور شخص) اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو اسکو کیا سزا ہوسکتی ہے؟

 

اس قانون کے تحت اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو جبری مشقت یا بیگار کیلیئے مجبور کرتا ہے تو اسے کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزا دی جاسکتی ہےیا اسے کم از کم پچاس ہزار روپے جرمانہ کیا جا سکتا ہےیا دونوں سزائیں بیک وقت بھی دی جا سکتی ہیں۔ جرمانہ وصول ہونے کے بعد مزدور کو اس میں سے کم از کم پچاس روپے یومیہ کے شرح سے ادائیگی کی جائے گی جتنا عرصہ اس نے جبری مشقت میں گزارا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب اس قانون کا اجرا ہو تو اس وقت کم از کم اجرت پندرہ سو (1500)روپے تھی اس لیے پچاس روپے (50) یومیہ ادائیگی درست تھی۔ اب چونکہ کم از کم اجرت بڑھ کر سات ہزار  (7000)روپے ہو گئی ہے تو مزدور کو ادائیگی کم از کم دوسوتیس (230)روپے کے حساب سے کی جائے گی۔ 

 

 مجموعہ تعزیرات پاکستان (پاکستان پینل کوڈ) میں بھی جبری مشقت اور غلامی کے متعلق دفعات موجود ہیں۔ اسکی دفعہ (370) انسانوں کی بطور غلام خریدوفروخت سے منع کرتی ہے اور اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو غلام بنا کر درآمد کرتا، برآمد کرتا، خریدتا، بیچتا، یا اسے  پابند رکھتا ہے تو اسکی سزا سات سال تک قید اور جرمانہ ہیں۔

 

 دفعہ (371) کے مطابق وہ شخص جس نے غلاموں کی درآمد، برآمد، خریدوفروخت، اور سمگلنگ کو پیشے کے طور پر اختیار کرے تو اسکی سزا دس سال تک قید اور جرمانہ ہے۔ جبکہ دفعہ (374)کے مطابق اگر کوئی شخص دوسرے کو اسکی مرضی کیخلاف جبری مشقت کیلیئے مجبور کرتا یے تو اسکی سزا زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید، یا جرمانہ یا دونوں ہیں۔

 

 انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے قانون مجریہ (2002) کے مطابق اگر کوئی شخص جان بوجھ کر منصوبہ بناتا ہے یا انسانوں کا کاروبار کرتا ہے جسمیں اسکا مقصد کسی فائدے کا حصول ہو، یااستحصالی تفریح جیسے جنسی تجارت وغیرہ،یا غلامی یا جبری مشقت میں  ان سمگل کیے گئے افراد کو استعمال کرنا ہو یاپاکستان کے اندر یا باہر کسی بچے کو گود لینے کیلیئے سمگل کرے تو اسکو سات سال تک کی قید کی سزا مع جرمانہ دی جا سکتی ہے۔ 

 

    

 

 

 

 

loading...